وپر کا ایجنڈا کامیاب نہیں ہونے دیں گے، جیل میں ڈالا جاسکتا ہوں, ایسے ہتھکنڈوں کے سامنے نہیں جھکوں گا: نواز شریف

اسلام آباد (ڈیلی خبر)سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اصول کی بات کرنے والے اوپر سے آرڈر لیتے ہیں، جیسے سینیٹ میں ہوا اب قومی اسمبلی میں بھی وہی ہونے جارہا ہے لیکن لوٹوں کو انتخابات میں نشان عبرت بنائیں گے، ہم نے عہد کرنا ہے کہ ایسے کسی ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دینا، ہوسکتا ہے کہ مجھے جیل میں ڈال دیا جائے لیکن فیصلہ کرلیا ہے کہ ان ہتھکنڈوں کے سامنے نہیں جھکوں گا، اگر ہم پیچھے ہٹے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ہم یہ جنگ لازماً جیتیں گے۔

ملتان اور بہاولپور ڈویژن کے کارکنوں اور عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نواز شریف نے کہا کہ ہم سب لوگ پاکستان کیلئے کام کررہے ہیں اور کر رہے تھے اس بات کی خوشی ہے کہ بڑی تندہی کے ساتھ یہ کام کر رہے تھے ہم پاکستان کی خدمت عبادت سمجھ کر کر رہے تھے جب ہم نے خدمت کا سفر شروع کیا تو اس وقت پاکستان کے حالات کیا تھے اور اب کیا ہیں۔اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی ضرورت نہیں ہے ، آج کا پاکستان 2013 کے پاکستان سے بہت مختلف ہے ہم نے بہت سے محاذوں پر کامیابی کے ساتھ سفر طے کیا ہے ۔
دہشتگردی کے خلاف آپریشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ زرداری اور مشرف نے دہشتگردی پر کیوں نہیں ہاتھ ڈالا، کیوں نہیں اس کے خلاف کھڑے ہوئے ؟ کیونکہ وہ ڈرتے تھے لیکن ہم نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کا کیا کام، اب بہت ہوگیا بس، پاکستان میں دہشتگردی نے اپنے قدم کیسے جمائے اس سے قطع نظر میں اس صورتحال کی بات کر رہا ہوں جو ہمیں درپیش تھی، دہشتگردی کے خلاف آپریشن سے پہلے ہم نے کراچی کے حوالے سے فیصلہ کیا حکومت آنے کے صرف تین ماہ بعد ستمبر 2013 میں خود چل کر کراچی گیا، ہم نے فیصلہ کیا کہ کراچی سے ڈکیتی، بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ کو ختم کرنا ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو 10 سال ہوگئے لیکن انہوں نے اس دوران کیا کام کیا، کیا ان کی ذمہ داری نہیں تھی کہ کراچی میں امن قائم کرتے ، انہیں تو عوام نے اس چیز کا مینڈیٹ دیا تھا۔
نواز شریف نے عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جلسہ لہور دا، مجمع پشور دا اور ایجنڈا کسے ہور دا، یہ ہے ان کا ایجنڈا ، یہ بڑی اصول کی باتیں کرتے ہیں لیکن اوپر سے آرڈر لیتے ہیں، اب یہ اوپر سے آرڈر کی وضاحت بنی گالہ کے طور پر کر رہے ہیں، کیا اوپر والے بنی گالہ میں رہتے ہیں؟۔عمران خان صاحب آپ کی جھوٹ اور منافقت کی سیاست نہیں چلے گی، آپ پرلے درجے کی بے اصولی کر رہے ہیں اور قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں، نیا پاکستان منافقت ، بد دیانتی، جھوٹ، کسی کی پگڑی اچھالنے ، گالیاں نکالنے اور کسی کو سرعام ذلیل کرنے سے نہیں حق اور سچ سے بنتا ہے، آپ نے پانچ سال میں خیبر پختونخوا کی کیا خدمت کی ، جا کر کراچی اور سندھ کو دیکھیں ، اس کے مقابلے میں پنجاب اور لاہور دیکھیں تو آپ کو لگ پتا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے پاکستان سے مجھے کیوں دربدر کیا؟ کیا میں اقامہ بھی نہ رکھتا،میرے پاس تو پاسپورٹ بھی نہیں تھا تو پھر میں سفر کیسے کرتا۔ نندی پور میں بابر اعوان نے اربوں روپے کھائے، میرے پیچھے تو نیب پڑا ہوا ہے لیکن انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ میری حالیہ خدمات کو نہ دیکھیں بلکہ گزشتہ ادوار کی خدمات بھی دیکھیں، مجھے بل کلنٹن نے 5 ارب ڈالر کی آفر کی لیکن اس کے باوجود ایٹمی دھماکے کیے، اگر غدار ہوتا تو پیسے جیب میں ڈال لیتا ، ایک کال مشرف کو بھی آئی تھی لیکن وہ اس کے آگے لیٹ گیاکیا پاکستان کے مفاد کی بات کرنے پر میرے نیب عدالت کے چکر لگوا رہے ہیں، ابھی ایک اور مقدمے کی تیار ی ہورہی ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ جیسے سینیٹ میں ہوا اب قومی اسمبلی میں بھی اس قسم کا کام ہونے لگا ہے یہ جو لوٹے کھڑے ہورہے ہیں انہیں انتخابات میں نشان عبرت بنائیں گے، ہم نے عہد کرنا ہے کہ ایسے کسی ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔ ہمارے سینیٹرز کے ٹکٹ واپس لے لیے گئے اور یہ امید لگائی گئی کہ شاید وہ کامیاب نہ ہوسکیں لیکن وہ کامیاب ہوگئے تو اب بھی رخنہ ڈالا جارہا ہے، بلوچستان میں جو ہوا کیا کوئی اس کا بھی نوٹس لے گا، بلوچستان میں سینیٹر منتخب کراکے ایسے شخص کو ووٹ دلوائے گئے جس کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا، اس طرح ملک نہیں چلے گا کیا ، ہم نے اس لیے ملک بنایا تھا کہ پارلیمنٹ میں بکے ہوئے لوگوں کو لے کر آئیں ؟ قوم جواب مانگتی ہے کہ بلوچستان کی حکومت کیوں توڑی گئی؟ فیصلہ کرلیا ہے کہ ان ہتھکنڈوں کے سامنے نہیں جھکوں گا اگر ہم پیچھے ہٹے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ہم یہ جنگ لازماً جیتیں گے اور اس میں عوام ہمارا ساتھ دیں گے۔
انہوں نے کہا وقت آگیا ہے کہ 70 سالہ تاریخ کو نیا رخ دیا جائے اگر آپ دل میں یہ طے کرلیں تو اللہ تعالیٰ آپ کی جدوجہد کو سرخرو کرے گا اللہ نے مخالفین پر آپ کو سبقت دی ہے تو گھبرانا کس بات سے ہے، ہم گھر گھر جائیں گے اور عوام کو متحرک کریں گے میں اس وقت مشکلات میں گھرا ہوا ہوں لیکن ان کے آگے نہ جھکوں گا۔آخری عمر میں پاکستان کی ایسی خدمت کرنا چاہتے ہیں کہ عوام بھی ہمیں یاد کریں اور اللہ بھی اس کا اجر دے۔ ہوسکتا ہے کہ مجھے جیل میں ڈال دیا جائے لیکن کارکنوں نے گھبرانا نہیں ہے۔
نواز شریف نے جلسوں کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ رمضان شریف کا مہینہ آنے والا ہے اور امید ہے کہ آپ لوگوں میں ہی موجود ہوں گا، ہمارے مرکزی قائدین عوام میں جائیں گے اور پورے ملک میں پھیلیں گے۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ گھر گھر پھیل چکا ہے اب اس کو عملی جامہ پہنانا ہے ، اس کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار ہیں۔ رمضان المبارک میں دن بھر روزے اور رات کی تراویح ہوگی اور اوپر سے گرمی بھی ہوگی اس لیے کھلا جلسہ کرنا ممکن نہیں ہوگا تو مارکی لگا کر مختصر جلسے کریں گے اور جہاں بھی جلسہ کریں گے مقامی قیادت کو 10 دن کا مارجن ضرور دیں گے تاکہ گراﺅنڈ پر تیاری کی جاسکے۔