آپ نے باہر کی تقریرکمرہ عدالت میں شروع کردی،جسٹس عظمت سعید کے ریمارکس پر عدالت قہقہے لگ گئے

اسلام آباد(ڈیلی خبر)سپریم کورٹ میں دانیال عزیز کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعید کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔
تفصیلات کے جسٹس عظمت سعید نے توہین عدالت کیس میں استفسار کیا کہ دانیال عزیز کی تعلیم کیا ہے؟،وکیل صفائی نے جواب دیا کہ دانیال عزیز اکانومسٹ ہیں، اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اکانومسٹ کا کام بولنا نہیں ،کام کرنا ہوتا ہے۔
دانیال عزیز نے کہا کہ میں نے عدلیہ کی آزادی کےلئے جدوجہد کی ہے،بغیر کسی اگر مگر عدلیہ کا مکمل احترام کرتا ہوں،وفاقی وزیر مملکت نے کہا کہ میرے بال سفید ہوگئے،عدلیہ اور قوانین کی بہتری کےلئے جدوجہد کی ہے، زمانے نے مجھے درست کردیا ہے۔
اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ دانیال عزیز!یہ تقریرآپ نے عدالت کے باہر کرنی ہے،آپ نے باہر کی تقریر کمرہ عدالت میں شروع کردی جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے،دانیا عزیز نے کہا کہ میری زندگی ادارے بنانے میں گزری،جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے سامنے یہ مقدمہ نہیں ہے،جیسے لوگ جلسہ سے جانا شروع ہوتے ہیں،آپ کی باتیں سن کربھی جانے لگے ہیں۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ مسٹر دانیال عزیز !آپ کا شکریہ، فیصلہ محفوظ کرتے ہیں۔