امریکہ کیساتھ شکیل آفریدی کی ڈیل ، پاکستان نے زیر گردش خبروں کا جواب دیدیا، تمام افواہیں دم توڑ گئیں،حقیقت کیا ہے؟

اسلام آباد (ڈیلی خبر)دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر کسی بھی قسم کی ڈیل کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ جب ڈیل نہیں کی جا رہی تو حسین حقانی کے ساتھ تبادلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ٗپاکستان نے کشمیر میں بھارتی مظالم کا معاملہ او آئی سی رابطہ گروپ میں اٹھایا ٗ مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہیں ٗافغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی دہشت گردوں کو چھپنے کا موقع دیتی ہے، افغان مہاجرین کی واپسی صرف پاکستان کی نہیں عالمی برادری کہ مشترکہ ذمہ داری ہے ٗگلگت بلتستان کے عوام کو تمام بنیادی حقوق دینے کیلئے کام ہورہا ہے، توقع ہے اصلاحات کا عمل موجودہ حکومت کے دورمیں ہی مکمل ہوجائے گا۔جمعرات کودفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں ہورہی اور یہ معاملہ وزارت داخلہ دیکھ رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہاکہ پاکستان نے کشمیر میں بھارتی مظالم کا معاملہ او آئی سی رابطہ گروپ میں اٹھایا ٗ سیکریٹری خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزارت خارجہ کا قلمدان وزیراعظم کے پاس ہے۔افغان مہاجرین پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی دہشت گردوں کو چھپنے کا موقع دیتی ہے، افغان مہاجرین کی واپسی صرف پاکستان کی نہیں عالمی برادری کہ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو تمام بنیادی حقوق دینے کیلئے کام ہورہا ہے، توقع ہے اصلاحات کا عمل موجودہ حکومت کے دورمیں ہی مکمل ہوجائے گا۔بھارت کے ساتھ پس پردہ رابطوں کے حوالے سے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاک بھارت سفارت کاروں کی ہراسگی کامعاملہ دونوں ممالک کے دفتر خارجہ نے مل کر حل کیا، اس معاملے میں بیک ڈور چینلز کا کوئی کردار نہیں ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بھارتی میڈیا نے خبر دی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خفیہ طور پر ٹریک ٹو مذاکرات کا انعقاد کیا گیا۔ مذاکرات اسلام آباد کے ہوٹل میں 28 سے 30 اپریل تک ہوئے۔بھارتی قیدی جیتندر ارجن کی حوالگی کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بھارتی قیدی جیتندر کو خون کی بیماری ہے اور اس کا ذہنی توازن بھی تھوڑا خراب ہے، عموماً بھارت بھی ہمارے قیدیوں کو واپس بھیج دیتا ہے، ہماری جانب سے قیدیوں کی رہائی 1400 برس پرانی اسلامی روایات کی عکاس ہے۔