سابق آئی ایس آئی سربراہ ریٹائرڈ جنرل ظہیر السلام نے وکیلوں سے کیا درخواست کی تھی…؟؟جاوید ہاشمی کے بعد عاصمہ جہانگیر بھی میدان میں آ گئیں بڑ انکشاف کر دیا

کراچی(ویب ڈیسک)سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہمارے آفس بیریئرز کو آئی ایس آئی کے چیف جنرل ظہیر الاسلام نے بلایا اور مدد کی درخواست کی تھی۔نجی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام”کیپٹل ٹاک“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2014کے دھرنوں سے ججوں کا کوئی تعلق نہیں تھا،جوڈیشل مارشل لاءکی بات بالکل غلط ہے،آج کی عدلیہ میں کوئی چیف جسٹس مارشل لاکا حامی نہیں ہوسکتا،جاوید ہاشمی کی یہ بات غلط ہے کہ سپریم کورٹ کی چھٹیاں تھیں اور جج بلالیے گئے،ہمارے آفس بیریئرز کو آئی ایس آئی کے چیف جنرل ظہیر الاسلام نے بلایا اور مدد کی درخواست کی تھی ،کئی لوگوں سے میرے متعلق کہا کہ وہ مائی فوج کے بہت خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت آئی ایس آئی بہت فعال تھی، لوگوں کو بلارہی تھی اور بتارہی تھی ، سیاستدان ماضی پر معافی مانگ لیں اور اب ڈکٹیٹرشپ کے ساتھ نہ جائیں۔عاصمہ جہانگیر نے مزید کہا کہ اگر مارشل لالگتا تو جسٹس جواد ایس خواجہ استعفیٰ دے کر چلے جاتے۔ انہوں نے بتایا کہ جاوید ہاشمی کی یہ بات غلط ہے کہ سپریم کورٹ کی چھٹیاں تھیں اور جج بلالیے گئے، اگست کا مہینہ تھا اور ججز اپنے اپنے ہوم ٹانز میں کام کررہے تھے، صرف جواد خواجہ اور ناصر الملک یہاں تھے، سپریم کورٹ بار کے اس وقت صدر کامران مرتضیٰ تھے، وکلانے صدر سپریم کورٹ بار کو پٹیشن دائر کرنے کیلئے کہا جس کے بعد وہ ناصر الملک کے پاس گئے اور انہیں پٹیشن سننے کیلئے کہا، ناصر الملک صاحب نے کہا میں پانچ سینئرترین ججوں کو بلا کر پٹیشن سنواتا ہوں، اس پٹیشن پر ایک عبوری فیصلہ آیا جس میں واضح پیغام تھا کہ سپریم کورٹ باہر سے کوئی مداخلت نہیں مانے گی اور ریڈ زون میں کوئی نہ رہے،ناصر الملک بنچ میں بیٹھ کر کہا کہ میں عمران خان سے صرف ایک دفعہ اس وقت ملا ہوں جب میں الیکشن کمشنر ہوتا تھا،اس وقت تحریک انصاف والے بار بار جوڈیشل کمیشن کی بات کررہے تھے۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ افتخار چوہدری اور ناصرالملک میں بہت فرق ہے، ناصر الملک کسی کی بات نہیں سنتے تھے اور کسی کا اثر قبول نہیں کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اب اگر اتنے بھونڈے طریقے سے ملوث ہوگی تو وکیل اور بار ایسوسیا یشنز نہیں چھوڑیں گے، اب جو ہماری عدلیہ آرہی ہے اس کا بڑا ٹھیک ٹھاک موقف ہے، وہ اس معاملے میں خود مختار ہے، زیادہ تر ججز کھڑے ہوجائیں گے یا گھر چلے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدان ماضی پر معافی مانگ لیں اور اب ڈکٹیٹر شپ کے ساتھ نہ جائیں، ہم ڈکٹیٹر شپ کے باپ کو ختم کردیں، سیاستدان بار بار غلطی کرتے اور سمجھتے ہیں فوج کے کندھوں پر چڑھ کر حکومت کرلیں گے، وہ حکومت نہ سیاستدانوں کو زیب دیتی ہے نہ ملک کیلئے ٹھیک ہے، عسکری قیادت کی بڑی عزت ہے، اپنی عزت نہ کھوئے، فوج سیاست میں آتی ہے تو اس پر تنقید ہوتی ہے، فوج سیاست میں نہیں آتی تو اس کیلئے نغمے گائے جاتے ہیں، ہم کو سب بھلا کر آگے چلنا چاہیے