وسیم اکرم کی بیوی نے ایسی مہم کا آغاز کر دیا کہ سب حیران رہ گئے

سپورٹس ڈیسک:سوئنگ کے سلطان پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم جنہیں پاکستانی عوام بھابھی بھی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک نئی مہم کا آغاز کیا ہے۔انہوں نے ٹوئٹر پر عوام سے درخواست کی کہ وہ جب بھی گاڑی یا موٹر سائیکل چلائیں تو احتیاط سے کام لیں۔اس مہم کا آغاز اس وقت ہوا جب شنیرا نے ایک ٹویٹ کی، جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’اپنی بیٹی کے اسکول سے نکلنے کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک خاتون اپنے بچے کو گاڑی چلاتے وقت بوتل سے دودھ پلا رہی تھی، یہ ٹھیک نہیں‘۔اس کے بعد ایک صارف نے ان کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں خوش آمدید‘۔شاید یہ جواب اس لیے دیا گیا کہ پاکستان میں کوئی ٹریفک قانون کی پابندی ہر کوئی نہیں کرتا۔تاہم شنیرا نے اس جواب کو قبول نہیں کیا اور ٹوئٹر پر لوگوں سے گاڑی چلاتے ہوئے احتیاط کرنے کی درخواست کی۔ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی مجھ سے یہ نہ کہے کہ پاکستان میں ایسا ہی ہوتا ہے، اگر آپ گاڑی چلاتے ہیں تو یہ آپ کا فرض ہے کہ دوسروں کا خیال رکھیں‘۔انہوں نے مزید کہا ’پاکستان میں ڈرائیونگ کی مزید تعلیم دینی چاہیے، اگر آپ گاڑی چلاتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط‘۔انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے فالوورز سے درخواست کی کہ ’جو بھی پاکستان میں رہتے ہیں وہ اپنے بچوں کو گاڑی چلاتے وقت پیچھے بٹھائیں، سیٹ بیلٹ ضرور پہنے اور گاڑی تیز نہ چلائیں‘۔اس کے فوری بعد مداحوں نے ان ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے ان کی مہم کو سپورٹ کرنا شروع شنیرا نے عوام سے مزید درخواست کرتے ہوئے ٹویٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’بائیک چلانے والے تمام افراد کو چاہیے کہ وہ ہیلمٹ ضرور پہنیں، خاص طور پر بچے‘۔یوم آزادی کے دن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یوم آزادی کا جشن قریب ہے، ہر کوئی سڑکوں پر باہر ہوگا، کوشش کریں کہ حادثات کم سے کم ہوں‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کسی قانون آنے کا انتظار مت کریں، ابھی سے آغاز کریں، اس ملک کے بڑوں کو نوجوانوں کے لیے ایک مثال قائم کرنی چاہیے‘۔تاہم ایک صارف نے ان کی ٹویٹس کو بیکار قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ ’آپ یہاں کچھ تبدیل نہیں کرسکتی، کیوں کہ شروع سے ہی سب غلط ہے، تبدیلی لانے کے لیے یہ ٹویٹس بیکار ہیں‘۔تاہم شنیرا کا اس کے جواب میں کہنا تھا کہ ’آپ کا بیان غلط ہے، پہلے اپنی سوچ تبدیل کریں، کچھ بھی بیکار نہیں ہوتا، تبدیلی کبھی بھی لائی جاسکتی ہے‘۔ان سے کے بعد ایک خاتون کا شنیرا کو سہراتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اس ملک سے آپ کی محبت کو دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے جیسے آپ یہی پیدا ہوئیں ہوں‘۔شنیرا کا نہایت بہترین جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’میں اس بات کا ثبوت ہوں، کہ آپ کو پاکستانیوں سے محبت کرنے کے لیے پاکستان میں پیدا ہونے کی ضرورت نہیں‘۔