واپسی کا فیصلہ سیاسی صورتحال مد نظر رکھ کر کروں گا ،زرداری کے پارلیمنٹ جانے سے سیاسی انتشار پیدا ہو گا ،اپنی ناکا م پالیسیوں کا ملبہ مجھ پر ڈالتے ہوئے حکومت کو شرم آنی چاہئے:پرویز مشرف

اسلام آباد (ڈیلی خبر) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان واپس آنے کا فیصلہ سیاسی صورتحال اور سیاسی خلاء کو مدنظر رکھ کر کروں گا، بے نظیر قتل کیس میں عدالت نے طلب کیا تو ضرور جاؤں گا، مگر دیکھنا ہوگا کہ بے نظیر قتل سے کس کو فائدہ ہوا؟پاکستان واپس آنے کا فیصلہ سیاسی صورتحال اور سیاسی خلاء کو مدنظر رکھ کر کروں گا، ای سی ایل سے اچانک نام نکلنے پر لگا کہ پیچھے آرمی کا ہاتھ ہے،زرداری کے پارلیمنٹ جانے سے صرف سیاسی انتشار ہی پیدا ہو سکتا ہے ،اپنی ناکا م پالیسیوں کا ملبہ میرے اوپر ڈالتے ہوئے حکومت کو شرم آنی چاہئے۔نجی ٹی وی چینل ’’ڈان نیوز‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے جنرل (ر)پرویز مشرف نے کہا کہ میں نے اپنا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے کسی سے بات نہیں کی تھی، میرا خیال تھا کہ اچانک نام ای سی ایل سے نکلنے پر اس کے پیچھے آرمی کا ہاتھ ہے، میرے بیرون ملک جانے کے پیچھے حقیقت کیا ہے؟ سب کو معلوم ہے، دوسرے لوگ صرف منافقت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک واپس آنے کیلئے کسی سے بھی کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا، میرا امریکہ میں علاج چل رہا ہے، دس سے پندرہ روز پہلے امریکہ سے علاج کرانے آیا ہوں، ڈاکٹر زنے علاج مکمل کرانے کی ہدایت کی ہے،صرف صحت ہی نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور جب پاکستانی سیاست میں کوئی خلا نظر آیا تو اس کو پر کرنے کیلئے ضرور پاکستان آؤں گا۔سابق صدر نے کہا کہ بے نظیر قتل کیس میں اگر عدالتوں نے کہا کہ میں عدالت میں پیش ہوں تو ضرور پیش ہوں گا، مجھے عدالت میں پیش ہونے سے کوئی گھبراہٹ نہیں ،پہلے بھی عدالتوں کا سامنا کر چکا ہوں ، وطن واپسی پر عدالتوں میں پیش ہونا پڑا تو ضرور پیش ہوں گا۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹوقتل کیس میں دیکھنا ہوگا کہ بے نظیر کے قتل سے کس کو فائدہ ہوا ہے؟ تحقیقات میں یہ دیکھا جاتا ہے اس کیس میں کون فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟ بے نظیر بھٹو کیلئے حکومت نے فول پروف سیکیورٹی فراہم کی تھی، جلسے کے فوری بعد بے نظیر بھٹو کا بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھنا یہ حکومت کی طرف سے سیکیورٹی کی فراہمی نہیں تھی تو کیا تھا؟ تحقیقات کرکے دیکھنا چاہئے کہ بے نظیر بھٹو کو بار بار کون کالز کررہا تھا کہ گاڑی سے باہر نکلیں؟ جنوبی پنجاب میں سلیپر سیل موجود ہیں، ان کے خاتمے کیلئے کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پانامہ لیکس پر عوام کو کہا کہ باہر نکلو، عوام باہر نکلی مگر عمران خان بنی گالہ سے باہر نہیں نکلے اور اپنے کارکنوں کو ڈنڈے پڑوا ڈالے، پھر کہا کہ چلو اب گھر واپس چلے جاؤ، فتح ہماری ہوچکی ہے،اس سے عمران خان کی شہرت بڑھنے کی بجائے پہلے سے بھی کم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کیس نواز شریف فیملی کے خلاف آیا ہے ، ملک میں لوگ تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ ملک میں سیاسی خلا ء موجود ہے، سیاست دان لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکے ، مہاجروں کے ساتھ میری ہمدردی ہے، ایم کیو ایم پہلے ہی چار ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے، دیکھتے ہیں آنے والے وقت میں سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے؟۔سابق صدر نے کہا کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زردری کے پارلیمنٹ میں آنے سے صرف سیاسی انتشار ہی پیدا ہوسکتا ہے، پیپلزپارٹی کو عوامی سطح پر کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچے گا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ حکومت کو اپنے فائدے کو دیکھتے ہوئے افغانستان سمیت خطے کیلئے پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں، حکومت کی کمزور پالیسیوں کے باعث پاکستان یہ حالات دیکھ رہا ہے،اپنی ناکا م پالیسیوں کا ملبہ میرے اوپر ڈالتے ہوئے حکومت کو شرم آنی چاہئے، میرے دور میں پاکستان کا امیج دنیا بھر میں بہتر تھا، پاکستان کے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور پاکستان روس کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔