امریکی ٹی وی کے سربراہ جنسی ہراسانی کے الزام پر مستعفی

نیویارک:(ڈیلی خبر) سوشل میڈیا پر می ٹو مہم میں جنسی ہراسانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے امریکی ٹی وی نیٹ ورک کے سربراہ لیس مون ویس نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ٹیلی ویژن اور ریڈیو نیٹ ورک ’سی بی ایس‘ کے 68 سالہ چیف ایگزیکٹو لیس مون ویس نے کئی خاتون ملازمین کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔کمپنی ذرائع کے مطابق سی ای او سی بی ایس لیس مون ویس کمپنی کی ہدایت پر تحقیقات مکمل ہونے تک اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے تک جوزف لینی ایلو کمپنی کی سی ای او کی ذمہ داریاں نبھائیں گی۔سی بی ایس کے سی ای او کے خلاف جنسی ہراسانی کا پہلا الزام جولائی میں سامنے آیا تھا جب ان خواتین نے سوشل میڈیا پر می ٹو ہیش ٹیگ کے ذریعے 1980 میں مون ویس کی جانب سے جنسی ہراسانی کے واقعے کو شیئر کیا۔ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے منسلک ایک پروڈیوسر اور ایک مصنفہ نے بھی سی ای او کے خلاف تصویری ثبوت پیش کیے جب کہ حال ہی میں لیس مون ویس کے خلاف مزید 6 خواتین نے جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔امریکی میڈیا کی طاقت ور شخصیت مون ویس نے اپنے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ خواتین سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے الزامات لگا رہی ہیں یہ بہت ہولناک الزامات ہیں۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی می ٹو ہیش ٹیگ مہم کا آغاز بین الاقوامی شوبز کی معروف خواتین نے کیا تھا جس میں جنسی ہراسانی کے واقعات کو بیان کیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا. جس کے بعد کئی شخصیات کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔