روس ایران طالبان کیساتھ رابطے ختم کریں، افغانستان : بعض ممالک مداخلت کر رہے ہیں : امریکہ

کابل (ڈیلی خبر) مشرقی افغانستان میں ڈرون حملے میں 3 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ‘ قندوز میں سکھ کمیونٹی کے رہنما کو قتل کردیا گیا۔افغان میڈیا کے مطابق حکام نے بتایا ننگرہار میں امریکی جاسوسی طیارے نے ایک مشتبہ ٹھکانے پر میزائل حملہ کیا جس کے نتیجے میں 3 عسکریت پسند ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔ننگر ہارکے علاقہ بھٹی کوٹ میں مارٹر حملے میں 13 شہری زخمی ہوگئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ شمالی صوبہ قندوز میں سکھ کمیونٹی کے رہنما دلسوز سنگھ کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا‘ ابھی تک کسی تنظیم یا گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔وسطی صوبہ لوگر میں مختلف کارروائیوں کے دوران آرمی آفسر سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے۔افغان وزارت داخلہ نے کنٹر میں انٹیلیجنس پر مبنی کارروائی میں داعش کے اہم رہنما کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب افغانستان نے ایران اور روس سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کابل سے تعاون کریں اور شدت پسند گروپ طالبان کے ساتھ رابطے ختم کریں۔عرب ٹی وی کے مطابق افغان وزارت خارجہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے ایک بیان میں کہا افغانستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی گروپ کے ساتھ دوسرے کسی ملک کے تعلقات قطعاً مناسب نہیں ہیں۔انہوں نے چند روز قبل پکڑے جانے والے روسی ساختہ اسلحہ بردار ٹرک اوربھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود افغانستان لانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا پولیس نے تاجکستان کی سرحد سے اندر داخل ہونے والے اسلحہ سے بھرے روسی ٹرک قبضے میں لے لیے ہیں اور اس حوالے سے سرکاری سطح پر روس سے رابطہ کرنے کی بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ادھر افغانستان میں متعین امریکی فوج کے سربراہ جنرل جان نکلسن نے الزام عائد کیا ہے کہ روس داعش کی سرکوبی کے لیے طالبان جنگجوو¿ں کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے ایک بیان میں انہوں نے الزام عائد کیاکہ بعض ممالک اپنے حاسدانہ اثرونفوذ کو بڑھانے کے لیے افغانستان میں اپنی مداخلت کررہے ہیں جبکہ روس داعش کی سرکوبی کے لیے طالبان جنگجوو¿ں کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔