روس نے کبھی پاکستان پر قبضہ یا اس پر کنٹرول کی کوشش نہیں کی: ایلچی پیوٹن

ماسکو (ویب ڈیسک) روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر ضمیر قبولوف نےہے کہا کہ جس وقت افغان جنگ شروع ہوئی اس وقت میں ایک جونیئر سفارت کار تھا اور یہ کہنا غلط ہوگا کہ روس پاکستان پر قبضہ کرنا چاہتا تھا کیونکہ روس کو اندازہ تھا کہ پاکستان جوہری ملک بن چکا ہے لہٰذا قبضہ یا حملہ کرنے کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ میں بھی بات چیت کے دوران میں نے کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ پاکستان پر قبضہ کرنا ہے یا کنٹرول حاصل کرنا ہے، بات چیت میں صرف یہی آرا پیش کی جاتی تھیں کہ پاکستان میں اگر روس مخالف کوئی اڈہ ہو تو اسے کیسے ختم کیا جاناچاہئے لیکن کنٹرول کے متعلق بات نہیں سنی۔ ایک سوال کہ عالمی کھلاڑیوں کی مرضی کے بغیر پاکستان جوہری طاقت کیسے بنا، کے جواب میں ضمیر قبولوف نے کہا کہ یقینی طور پر روس پاکستان کا دوست ملک نہیں تھا لیکن اس وقت امریکا، چین اور کئی دیگر ممالک پاکستان کے دوست تھے، ممکن ہے کہ ان میں سے کسی نے پاکستان کی مدد کی اور وہ جوہری صلاحیت کا حامل ملک بن گیا۔ انہوں نےامید ظاہر کی ہے کہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کے حوالے سے نئی حکمت عملی مرتب کریں گے اور ایسے کئی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے جو صرف روس ہی نہیں بلکہ پاکستان، چین اور ایران جیسے مقامی کھلاڑیوں کیلئے بھی باعث تشویش ہیں۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملے کا مقصد یہ تھا کہ 1979ءمیں ایرانی انقلاب کے بعد امریکا کا خطے میں سب سے بڑا فوجی اڈہ ختم ہوگیا تھا جو ایک بہت بڑے علاقے پر کنٹرول کیلئے کافی تھا اور اسے علاقے میں اپنا اثر رسوخ برقرار رکھنے کیلئے ایک نئے اڈے کی ضروری تھی تاکہ روس، چین، جوہری صلاحیت کے حامل پاکستان اور ایران پر نظر رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کی جوہری صلاحیت سے بہت پریشان ہے، دوسری پریشان کن بات پاکستان کے جوہری بم کو اسلامی قرار دیا جانا اور اس سے کئی جذبات کا وابستہ ہونا ہے، اگرچہ فی الحال یہ صرف بیانات کی حد تک ہے لیکن اس کے باوجود یہ بھی ایک اہم پہلو ہے۔ افغانستان پر حملے کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ یہ ملک دنیا کے تیسرے بڑے ہائیڈرو کاربن ذخیرے کے مرکز پر واقع ہے اور یہیں سے خلیج فارس، بحیرہ کیسپئن اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں وزیراعظم داﺅد خان نے روس کی ایما پر بادشاہ ظاہر شاہ کیخلاف بغاوت نہیں کی تھی۔ اگرچہ بغاوت میں حصہ لینے والے تمام تر فوجیوں اور گریجوئٹس کی تربیت روس یا پھر ترکی نے کی تھی لیکن اس بغاوت کے پیچھے روس کا ہاتھ نہیں تھا کیونکہ روس شاہ ظاہر کے ساتھ مطمئن تھا اور جس طرح کا تعاون روس کو درکا تھا وہ شاہ ظاہر سے مل رہا تھا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ القاعدہ اور داعش کی بنیادیں سویت دور سے نہیں نکلتیں۔ القاعدہ اور داعش بعد کے دور کی پیداوار ہیں۔ مجاہدین کی مدد کرنے والوں میں کئی ملک شامل ہیں جن میں سرفہرست امریکا اور سعودی عرب ہیں جس کے بعد پاکستان، ایران اور چین کا نام آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ملاقات ملا محمد عمر سے ہوئی تھی، جس طرح کی زبان وہ اس وقت استعمال کیا کرتے تھے وہی زبان آج داعش استعمال کر رہی ہے؛ کوئی فرق نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ روس کا افغانستان کیلئے کوئی پلان نہیں، پلان بنانا ہر آزاد ملک کا کام ہے، امریکا کی طرح روس میں بری عادتیں نہیں کہ دوسروں کیلئے پلان یا منصوبے بنائیں، کسی بھی طرح کی کانفرنس سے افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم نتائج نہیں صرف کانفرنس کے انعقاد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کوئی بھی کانفرنس افغانستان میں امن نہیں لا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کیلئے دنیا کو اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی، اس کی معیشت، انتظامیہ اور فوج میں بہتری لانا ہوگی، اگر ایسا نہ ہوا تو ملک ٹوٹ کر بکھر جائے گا جس کے نہ صرف روس بلکہ خطے کے تمام ممالک پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
داعش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ داعش کا سربراہ ابوبکر بغدادی یا کوئی ایک شخص نہیں بلکہ اس تنظیم کا ڈھانچہ مرکزیت پر مبنی نہیں، ہر کارکن کی سوچ اور نظریہ یکساں ہے، تنظیم کے حامی اور مددگار ملکوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم بات چیت کے دوران یہ محاورہ استعمال کرتے ہیں کہ دو ملاﺅں میں مرغی حرام۔ روس اور سوویت یونین کے تقابلی جائزے کے حوالے سے ضمیر قبولوف کا کہنا تھا کہ مجھے دونوں ہی پسند ہیں لیکن ہمارا مقصد ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے اور انہیں نہ دہراتے ہوئے بہتری کی جانب بڑھنا ہے۔