سوئٹزرلینڈ تو بہت دور کی بات ،پاکستان کو بنگلہ دیش جیسا بننے کیلئے کتنا عرصہ لگے گا؟بنگلہ دیش کی وزیر اعظم نے عمران خان کو چیلنج کردیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی صحافی ضیغم خان کی جانب سے سوئٹزرلینڈ کی بجائے بنگلہ دیش کو ماڈل بنانے کے مشورہ پر ردعمل دیتے ہوئے بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے پاکستان کو بھرپور امداد اور رہنمائی دینے کی پیش کش کردی۔تفصیلات کے مطابق ایک مقامی ٹی وی ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیغم خان نے کہا کہ ہمیں بڑے بڑے نعرے لگانے کی بجائے قابل عمل اہداف مقرر کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سوئٹزرلینڈ بنانے کا نعرہ ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان اور ان کی پارٹی حقائق سے آشنا نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو فی الحال بنگلہ دیش کی سطح پر پہنچنے کے لیے بھی کم از کم دس برس درکار ہوں گے۔ انہوں نے چند اعداد وشمار بھی پیش کیے،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کرپشن کے حوالے سے بنگلہ دیش چوبیس پوائنٹ پاکستان سے پیچھے ہے لیکن معاشی اشاریوں میں وہ پاکستان سے آگے ہے۔بنگلہ دیش سات فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے

جبکہ پاکستان کی شرح ترقی پانچ عشاریہ آٹھ فیصد ہے۔ ڈھاکہ سٹاک ایکسچینج کی کل مالیت 300 ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی کل مالیت 100 بلین ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش کی برآمدات کی کل مالیت 40 ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان کی برآمدات 22 ارب ڈالر ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کرپشن یا انسانی حقوق کا نہیں بلکہ معاشی نظام کو درست خطوط پر استوار کرنے اور ٹھوس معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بنگلہ دیشی میڈیا میں ضیغم خان کے بیان کی بازگشت گونجی تو وزیراعظم شیخ حسینہ واجد تک بھی پہنچی،بنگلہ دیشی میڈیا کو بیان دیتے ہوئے حسینہ واجد کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش دو طرفہ تعلقات میں تلخی کے باوجود پاکستان کی مدد کرنے پر تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ہم سے مدد کی درخواست کرے گا تو ہم اپنے تجربات کے حوالے سے پاکستانی عوام کی فلاح اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری لانے کے مقاصد کی خاطران کی بھرپور مدد کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کھلاڑی ہیں اور انہوں نے کئی چھکے مارے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ گیم آف پاور میں کتنے چھکے ماریں گے۔ انہوں نے بڑی جدوجہد کے بعد اقتدار حاصل کیا ہے۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی تعمیر و ترقی سے متعلق اپنے وژن کی وضاحت کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ کے ماڈل پر عمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔