جوڈیشل افسر کے گھر پر تشدد کا نشانہ بننے والی طیبہ اور اس کے والدین اچانک غائب ہو گئے

اسلام آباد (ڈیلی خبر )جوڈیشل افسر راجا خرم علی خان کے گھر میں تشدد کا نشانہ بننے والی کمسن طیبہ اور اس کے والدین اچانک لاپتہ ہو گئے ۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے بعد چائلڈ پروٹیکیشن بیورو کی ٹیم تشدد کا نشانہ بننے والی بچی طیبہ کے گھر پہنچی ۔جب چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی ٹیم جڑاں والہ پہنچے تو انہیں بتا یا گیا کہ طیبہ اور اس کے والدین اسلام آباد سے تاحال گھر نہیں پہنچے ہیں ۔طیبہ کے دادا نے بتا یا کہ بچی اور والدین سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور وہاں کہاں ہیں اس بارے میں بھی نہیں پتہ ۔چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ڈسٹرکٹ افسرمحمد الفت نے کہا کہ معلومات ملی کے طیبہ اور اس کے والدین آبائی گاﺅں آ چکے ہیں جس کے بعد ہم ان کے گھر پہنچے لیکن یہاں طیبہ اور اس کے والدین موجود ہی نہیں ہیں ۔بچی کو جس خاتون نے کام پر رکھوایا تھا وہ بھی لاپتہ ہو گئی ہے ۔واضح رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے جوڈیشل افسر راجا خرم علی خان کے گھر پر کمسن ملازمہ طیبہ کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا نے اور پھر معاملے کو دبانے کی کوشش کے حوالے سے میڈ یا پر نشر ہونے والی رپورٹس پر از خود نوٹس لیاتھا ۔