مذہبی تنظیموں کا احتجاج ، پولیس سے تصادم ،100سے زائد مظاہرین گرفتار

لاہور(ڈیلی خبر)سلمان تاثیر کی چھٹی برسی کے موقع پر مذہبی تنظیموں کے کارکنان اور پولیس کے تصادم میں ڈی ایس پی سمیت پانچ اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جبکہ 100سے زائد افراد کو حراست میں لے کر تھانوں میں منتقل کردیاگیا۔
تفصیلات کے مطابق سلمان تاثیر کی برسی کے موقع پر مذہبی جماعتوں نے کلمہ چوک سے لبرٹی اور مال روڈ پر ریلیوں کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن صرف مال روڈ پر ہی ریلی نکالنے کی اجازت دی گئی ، جب کلمہ چوک پر مذہبی جماعت کے کارکنان جمع ہوئے تو لبرٹی کی طرف مارچ روکنے کے لیے کنٹینرلگادیئے گئے جس کے بعدفیروز پور روڈ میدان جنگ بن گیا۔ پولیس اور مظاہرین میں ہاتھا پائی شروع ہوگئی جس پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی ۔ ڈی آئی جی آپریشن حیدراشرف کے مطابق سیکیورٹی کیلئے آٹھ ایس پیز، 40ڈی ایس پیز، 87ایس ایچ اوز اور تین ہزار اہلکارتعینات تھے ۔
یادرہے کہ چار جنوری 2011ءکو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے اپنے ہی سیکیورٹی گارڈ ممتاز قادری نے فائرنگ کرکے قتل کردیا جس کے بعد ممتاز قادری کو گرفتار کرلیاگیا اور 2016ءمیں اُسے اڈیالہ جیل میں پھانسی کے پھندے پر لٹکادیاگیاتھاجس کے بعد ان کی بارہ کہوکے علاقے میں تدفین کی گئی اور اب وہاں ایک عالی شان مقبرہ بھی تعمیر کیا جارہاہے جبکہ سلمان تاثیر کی برسی کے موقع پر مختلف سڑکوں پر ممتاز قادری کے حق میں بینرز بھی لگائے گئے تھے ۔